جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی، پاکستان
یوسف ابھی ابھی ایک فالو اَپ مشن پر پہنچا ہے۔ اسے خیبرپور جانا ہے، وہ گاؤں جو ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے زلزلے کی زد میں آیا تھا...
اُس وقت آئی ایچ ایف، یعنی انٹرنیشنل ہیومن فنڈ، نے امداد اور پناہ فراہم کرنے کی کوششوں کی قیادت کی تھی...
جاوید:مسٹر عبداللہ!! دوبارہ خوش آمدید!!
یوسف:السلام علیکم جاوید! آپ سے دوبارہ مل کر بہت اچھا لگا!
جاوید:وعلیکم السلام!! بہت خوشی ہوئی کہ آپ آ گئے!
جاوید:امید ہے آپ کی فلائٹ ٹھیک رہی؟
یوسف:الحمدللہ!! نوواسٹی سے جہاز اڑتے ہی میری آنکھ لگ گئی...
جاوید:چلیں، پہلے آپ کو ہوٹل کے کمرے میں چیک اِن کرواتے ہیں...
جاوید:...اور پھر اگر آپ تھکے ہوئے نہ ہوں تو کچھ کھانے کے لیے باہر چلیں؟
یوسف:بہت اچھا پروگرام ہے!!
یوسف:..عشاء کی نماز کس وقت ہے؟
اسی شام، کچھ دیر بعد... بی بی کیو اسپائس، کراچی کے بہترین ریستورانوں میں سے ایک...
یوسف:سبحان اللہ! مینو میں تو بہت کچھ ہے! آپ ہی فیصلہ کریں...
جاوید:ہمم.. مجھے یہاں کا بکرے کا گوشت بہت پسند ہے!! بکرے کی ایک ران اور چھ نان منگواتے ہیں!
ویٹر:بہترین انتخاب، سر!! پورے شہر میں اس سے اچھی ران نہیں ملتی...
یوسف:تو جاوید، مجھے خیبرپور کے بارے میں بتائیں...
جاوید:الحمدللہ! آئی ایچ ایف نے پچھلے سال جو نئے گھر بنائے تھے، ان کے لیے سب خاندان بہت شکر گزار ہیں۔
جاوید:...اور اسکول بھی آخرکار معمول کے مطابق چلنے لگا ہے!!
جاوید:...لیکن جیسا کہ میں نے اپنی ای میلز میں بتایا تھا، پچھلے دو مہینے خیبرپور کے لیے بہت پریشان کن رہے ہیں...
جاوید:بچوں کے کھیل کے میدان کے لیے مختص زمین پر قریبی قبیلے کے کچھ غنڈوں نے زبردستی قبضہ کر لیا ہے!!
جاوید:...اس شدت پسند قبیلے کا سردار بہت خطرناک ہے، اور مقامی پولیس کچھ نہیں کر پائی!
یوسف:کیا حکومت کوئی کارروائی کر بھی رہی ہے؟!!
جاوید:سنا ہے ان کے سردار کے حکومت میں گہرے تعلقات ہیں، اور ہماری فوج پہلے ہی دوسرے ضروری مشنز میں مصروف ہے...
یوسف:انا للہ وانا الیہ راجعون!!
یوسف:...میں قبیلے کے سردار سے ملنا چاہوں گا..
یوسف:اللہ سبحانہ وتعالیٰ خیبرپور کے لیے آسانی پیدا فرمائے!!
اچانک!
چھپاک!
یوسف:ارے!! یہ کیا ہوا؟!
نوجوان:تم!!
نوجوان:دیکھو تم نے کیا کر دیا!! اندھے ہو کیا؟؟
نوجوان:تمہیں پتا بھی ہے یہ ٹی شرٹ کتنی مہنگی ہے؟!!
ویٹر:س-سر! مجھے بہت افسوس ہے! م-میں نے آپ کو اٹھتے ہوئے نہیں دیکھا!!
نوجوان:صرف معافی کافی نہیں!!
ویٹر:آآآہ!!
تڑاخ!!
یوسف:مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا!! اس نے اس بے چارے پر ہاتھ اٹھا دیا!!
نوجوان:مینیجر کہاں ہے؟؟ میں چاہتا ہوں اسے ابھی نوکری سے نکالا جائے!!
ویٹر:نہیں!!
نوجوان:مینیجر!! میں ایسے دس ریستوران خرید سکتا ہوں!! جانتے ہو میں کون ہوں؟؟
نوجوان:ابھی کے ابھی یہاں آؤ!!
ویٹر:ا-اللہ سے ڈرو!!!
ویٹر:..مظلوم کی بددعا سے ڈرو!!
نوجوان:تمہاری یہ ہمت کہ مجھے نصیحت کرو؟؟!
ویٹر:ن-نہیں!!
غرّرر!
یوسف:بس کرو!!
ساتھی:بے وقوف!! تم نے وزیرِ اعلیٰ کے بیٹے سے پنگا لیا ہے!!
اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی!!!
...اپنی جان دے کر!
...غلط جگہ.. غلط وقت!!
اب بھاگ کر کہاں جاؤ گے، دوست؟؟!!
جاوید:انہیں چھوڑ دیں، مسٹر عبداللہ!
یوسف:آپ ٹھیک کہتے ہیں جاوید، جاہلوں سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں!!
نوجوان:کیا؟؟! ہمارا ہیرو اب لڑنا نہیں چاہتا؟؟
یوسف:اس کی کوئی ضرورت نہیں... لوگ ایک رات کے لیے کافی کچھ دیکھ چکے ہیں!
نوجوان:اب بہت دیر ہو چکی، دوست!!!
نوجوان:...یہ معاملہ باہر چل کر نمٹاتے ہیں!!



